پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارت کی پانچ بڑی ایئر لائنز شدید متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور ورلڈ فلائیٹ انفارمیشن ڈیٹا کے اعدادوشمار کے مطابق ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ متاثرہ ایئر لائنز میں شامل ہیں۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، جبکہ ہفتہ وار تقریباً 800 بھارتی پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ دہلی کا اندرا گاندھی ایئرپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں ہفتہ وار 640 پروازیں متاثر ہیں۔ دہلی سے امریکا، برطانیہ، جرمنی، ترکی اور قازقستان جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی ایئر لائنز کو متبادل طویل فضائی روٹس استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا سفر 1 سے 3 گھنٹے تک طویل ہوگیا ہے۔ بھارتی ایئر لائنز کو ری فیولنگ، لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ چارجز کی مد میں اضافی اخراجات کے ساتھ طویل فضائی روٹس کے باعث اضافی عملے اور آپریشنل اخراجات کا بھی سامنا ہے۔ بھارتی ایئر لائنز کے لیے ایران اور خلیجی فضائی راستے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایران، امریکا کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے بھارتی ایئر لائنز کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ بھارتی ایئر لائنز کو رواں سال مزید 600 ملین ڈالر نقصان کا خدشہ ہے۔ بھارت کی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے بھارتی ایئر لائنز کے مزید نقصان کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔ مسلسل فضائی پابندیوں سے بھارتی ایئر لائنز کے فضائی آپریشنز کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے، جبکہ طویل روٹس اور اضافی اخراجات کے باعث بھارتی ایئر لائنز شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے پاکستانی ایئر لائنز نسبتاً کم متاثر ہوئی ہیں، بھارتی فضائی حدود سے گزرنے والی پاکستانی صرف چند پروازیں متبادل روٹس پر منتقل ہوئی ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی ایئر لائنز پر فضائی پابندی ستمبر 2026 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارتی ایئر لائنز کے ساتھ ملٹری اور کارگو طیارے بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کرسکتے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے بھارتی طیاروں پر پابندی برقرار رکھنے کا نوٹم جاری ہے۔