سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پمز سانحے پر بحث کے دوران ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر شدید سوالات اٹھائے گئے، کمیٹی نے ذمہ دار افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اقبال درانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی کمپنی اور مانیٹرنگ کمیٹی کے خلاف کارروائی کی جانی تھی، انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیے گئے ہیں جبکہ پمز میں قائم انکوائری کمیٹی نے بھی نوٹسز جاری کیے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود 8 افسران کے خلاف تاحال ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صحت نے بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے وزارت داخلہ کو کہا گیا ہے تاہم ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔ اس پر سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے ریمارکس دیے کہ وزارت صحت خود مدعی ہے تو وزارت داخلہ کو کیوں کہا جا رہا ہے، آپ پوسٹ مین کیوں بن رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت خود مدعی بنے اور ایف آئی آر درج کروائے۔ اجلاس میں بچوں کی حوالگی اور ڈی این اے ٹیسٹ سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سینیٹر مسرور نے کہا کہ یہ چیزیں چھپائی جا رہی ہیں اور سوال کیا کہ بچوں کو بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کے کیسے حوالے کیا گیا؟ ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے بچوں کو خود دیکھا تھا، بچوں کے نام کے ٹیگز اور پمپر بھی موجود تھے جبکہ 10 لاشیں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں جو جلی ہوئی نہیں تھیں۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے دو مرتبہ پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی گئی، تاہم ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق انہیں یہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔