ایکسپریس اردو
ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ، کارروائی ہوئی تو قیمت 700روپے سے بڑھ سکتی ہے
اوگرا کی جانب سے ایل پی جی مافیا کے خلاف کارروائی شروع نہ کرنے کے باعث عوام دنیا کی مہنگی ترین ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں لیکن کارروائی کی تو بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا اور قیمت 700 روپے سے بھی تجاوز کر جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ پانچ چھ روز سے ایل پی جی مافیا کھلے عام من مانی قیمت پر دھڑلے سے ایل پی جی فروخت کر رہا ہے مگر اوگرا سمیت کوئی بھی ادارہ مہنگی ترین ایل پی جی فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار ہی نہیں۔
اوگرا کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ تین چار روز سے اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر میٹنگ ہوئی جس میں مختلف اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے جس میں بتایا گیا کہ تفتان بارڈر بند ہونے سے قیمت میں اچانک اضافہ ہوا، ملکی ضروریات کی 70 فیصد ایل پی جی امپورٹ ہوتی ہے جبکہ 30 فیصد ملکی پیداوار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر اس وقت ایل پی جی کمپنیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ ہڑتال کرنے سمیت اپنے پلانٹس بند کر دیں گے جبکہ دکاندار بھی ان کے ساتھ مل کر ہڑتال میں شامل ہو جائیں گے، اس وجہ سے ایل پی جی مہنگی فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
اعلیٰ افسر نے بتایا کہ تمام تر صورتحال سے پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے اور یہی فیصلہ کیا گیا کہ ابھی ان کے خلاف کارروائی نہ کی جائے جبکہ کارروائی کے لیے فہرست بھی تیار کر لی گئی تھی۔ اوگرا نے ایل پی جی کمپنیوں کے پلانٹس پر کارروائی کرنی تھی جبکہ صوبائی حکومتوں کی ضلعی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ایل بی جی ذخیرہ کرنے والے مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لانی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی اس لیے شروع نہیں کی گئی کہ اگر ہڑتال ہوگئی تو ملک بھر میں توانائی کا پہلے ہی بحران ہے جو مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔
ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے حکومت فوری خود کنٹرول سنبھالے ورنہ حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
اس سلسلے میں اوگرا کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کام ہو رہا ہے، تفتان بارڈر بند ہونے سے کچھ مشکلات ہیں تاہم جلد ہی قابو پا لیا جائے گا۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.