ایکسپریس اردو
بلوچستان …مڈل کلاس کا پھیلاؤ ضروری ہے
بلوچستان کے حوالے سے دو اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ پہلی پیش رفت یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کیا ہے۔اپنے خطاب میں انھوں نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے انتہائی اہم گفتگو کی اور حاضرین کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔
دوسری پیش رفت یہ ہے کہ پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت نے ملاقات کی،اس ملاقات میں بھی بلوچستان کے حوالے سے خاصی اہم باتیں ہوئی ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کے دوران بلوچستان کے مسائل پر گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دی ہے۔وزیراعظم پاکستان نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا، بندوق اٹھانا کسی صورت قابل قبول نہیں، جو لوگ اپنا راستہ درست کرنے کے لیے تیار ہیں انھیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔
بلوچستان پاکستان کی ترقی کا زینہ ہے۔ بلوچستان کے عوام اور وہاں کا مڈل کلاس کاروباری طبقہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے سخت نالاں ہیں۔
بلوچستان کے عوام اور مڈل کلاس کی خواہش ہے کہ بلوچستان میںسرداری نظام کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ہو تاکہ صوبے میں پرامن تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوں اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے کا پھیلاؤ ہو سکے۔ وزیراعظم پاکستان نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کے دوران بھی کہا ہے کہ بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، مسائل کے حل کا بہترین طریقہ باہمی مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔
انھوں نے یقین دلایاکہ حکومت بلوچستان کے عوام اور کاروباری طبقے کی تمام جائز شکایات دور کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبہ مل کر ہی اس سلسلے میں اقدامات کر سکتے ہیں۔مسائل کے حل کے لیے مشاورت ضروری ہے لیکن مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں۔
وزیراعظم پاکستان کی بات بالکل درست ہے کیونکہ دہشت گردی کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل بڑھتے ہیں۔ویسے بھی بلوچستان میں جو گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں‘انھیں افغانستان اور بھارت کی بھرپور مدد حاصل ہے جب کہ بلوچستان کے اندر بعض بااثر لوگ بھی ان کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔
اس وجہ سے بلوچستان میں درمیانے طبقے کا پھیلاؤ نہیں ہو پا رہا۔صوبے میں تعلیمی ادارے قائم نہیں ہو رہے اور جو قائم ہیں وہ سو فیصد نتائج نہیں دے رہے‘ دہشت گردوں کی وجہ سے ہی بلوچستان میں بڑا کاروباری طبقہ سرمایہ کاری نہیں کرتا ‘دہشت گردوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام تعلیم حاصل کر سکیں اور نہ ہی وہ ہنر مند بن سکیں‘ جب تعلیم نہیں ہوگی اور ہنر مندی بھی نہیں ہو گی تو پھر درمیانے درجے کی کاروباری سرگرمیاں بھی نہیں ہو گی۔
یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد بلوچستان میں دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب کے مختلف علاقوں سے آنے والے ہنر مندوں‘اساتذہ اور کاروباری افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں مزدوری کرنے والے افراد یا شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنا ناقابل قبول ہے، مسائل باہمی گفت و شنید سے حل کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف واضح طور پر کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے فتنۃالخوارج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے عناصر ہیں، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور قربانیاں دے کر عوام کو محفوظ بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن این-25 شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے، منصوبے کے لیے وفاق نے 415 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ یہ چاروں صوبوں کے عوام کا پیسہ ہے جو بلوچستان کی ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین بندرگاہوں میں شامل ہے جب کہ گوادر ایٔرپورٹ پاکستان کے عظیم دوست چین کی جانب سے تحفہ ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کے 22 ہزار زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے گئے ہیں، 70 ارب روپے کے اس منصوبے میں وفاق نے 40 ارب روپے فراہم کیے۔
این ایف سی ایوارڈ کے موقع پر وفاق نے بلوچستان کے لیے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا جب کہ پنجاب نے بھی بلوچستان کو سالانہ 11 ارب روپے فراہم کیے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم کے پروگراموں میں شامل کیا گیا اور ہونہار طلبہ کے لیے بلوچستان کا حصہ آبادی کے تناسب سے بھی 10 فیصد زیادہ رکھا گیا وزیراعظم نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں جہاں پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
کوئٹہ، چمن شاہراہ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے مزید 100 یا 200 ارب روپے بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں، تاہم دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو صوبے میں ترقی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کو کوئٹہ جا کر بلوچستان میں موسم سرما کے دوران گیس لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
بلوچستان کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کی جہاں وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے وہاں بلوچستان کی صوبائی حکومت کی ذمے داری سب سے زیادہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے کاروباری طبقے کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حوالے سے صوبائی حکومت پر دباؤ بنائیں اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی بیخ کنی کرنے کے لیے بھی اپنا رول پلے کریں۔
ادھر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے بلوچستان کی اہم شخصیات نے ملاقاتیں کی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن و استحکام سرمایہ کاری کے فروغ اور صوبے کے انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن عناصر کے غیر ملکی پراکسیز ہیں، دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی روکنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کے غیر متزلزل، فیصلہ کن اور بھرپور ردعمل سے دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنائے جائیںگے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سماجی رہنماؤں کے امن، سماجی ہم آہنگی اور مثبت قومی مکالمے کے فروغ میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن کے منفی پروپیگنڈے کا بلاجھجک اور جامع انداز میں مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب اور بلوچستان کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور عوام کی امنگوں کو اجاگر کیا جائے۔ ان کا کہناتھا کہ بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں بلوچستان کی اہم شخصیات اور شرکاء نے کہا کہ سچ غالب آئے گا جب کہ دشمن قوتوں کا جھوٹا بیانیہ اپنے ہی پروپیگنڈے اور فریب میں دفن ہو جائے گا۔
بلوچستان کے عوام اور وہاں کے درمیانے طبقے کا تحفظ کرنا جہاں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے وہاں درمیانے طبقے کو آگے بڑھ کر سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پرانے نظام کے پروردہ سٹیک ہولڈر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں پرانا نظام تبدیل ہو کیونکہ اگر پرانا نظام تبدیل ہوتا ہے تو بلوچستان کی معاشرت اور سیاست پر پرانے سٹیک ہولڈرز کا کنٹرول اور اختیار ختم ہو جائے گا ۔
اس لیے بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور قیام امن کے لیے صوبے کے درمیانے طبقے کو اپنا سیاسی کردار بھی ادا کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت سیکیورٹی فورسز اور پولیس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں کیے گئے مشترکہ آپریشنز میں 49 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔بلوچستان میںامن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز ‘صوبائی پولیس اور وہاں کے سیاست دان اپنا رول پلے کر رہے ہیں۔
بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہے۔بلوچستان میں بسنے والی تمام قومیتوں‘ لسانی گروپوں اور گروہوںسے تعلق رکھنے والے عام اور متوسط طبقے کے لوگوں کو صوبے میں قیام امن کے لیے رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ ماضی کے مقابلے میں صورت حال بہتر ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہوتی چلی جائے گی۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.