وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں سے اہم مذاکرات میں کریڈٹ ریٹنگ، سرمایہ کاری سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے جے پی مورگن کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتِ حال، کریڈٹ ریٹنگ اور مالیاتی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے ساختی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کے درجے تک پہنچانے کے ہدف پر گفتگو ہوئی، جبکہ جے پی مورگن نے اہم معاشی اشاریوں اور ادارہ جاتی بہتری کے حوالے سے تجزیاتی معاونت کی پیشکش کی ہے۔ علاوہ ازیں سکوک، روپے میں مالیت اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز، پانڈا بانڈز اور یورو بانڈز کی ممکنہ ٹوکنائزیشن سمیت مالی وسائل کے مختلف ذرائع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی شرحِ سود سے وابستہ خطرات کے تناظر میں مناسب وقت پر مالیاتی لین دین، سرمایہ کاروں سے روابط اور نجی پلیسمنٹ کے لیے انڈر رائٹنگ معاونت سے متعلق جے پی مورگن کے مشوروں کو سراہا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس موقع پر میگا (MIGA) کی ضمانت سے مالی معاونت، آئی ایف سی کی معاونت سے ڈی پی آر پر مبنی مالیاتی لین دین، روپے میں مالی معاونت اور قرضوں کی ممکنہ تبدیلی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں ترسیلاتِ زر کے مستحکم بہاؤ، علاقائی خطرات، قرضوں کے تبادلے، کریڈٹ معاونت اور ضمانت شدہ مالیاتی انتظامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ دریں اثنا وزیرِ خزانہ نے شارجہ اسلامک بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں مالیاتی ذرائع، سرمایہ کاری کے مواقع اور سکوک کے اجرا میں بینک کی شرکت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ محمد اورنگزیب نے مالیاتی اور بیرونی شعبوں کے اشاریوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت کو اجاگر کیا۔ اس ملاقات کے اعلامیے کے مطابق سکوک کے ممکنہ اجرا، روپے میں مالیت اور ڈالر میں ادائیگی والے مالیاتی ذرائع، مزید پانڈا بانڈز کے اجرا اور یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ بہتر مالیاتی ذرائع اختیار کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ علاوہ ازیں میگا (MIGA) کی ضمانت سے مالی معاونت اور عالمی سطح پر مالی وسائل کے حصول کی بڑھتی ہوئی لاگت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شارجہ اسلامک بینک کے وفد نے پاکستان کے ساتھ تعاون کی حمایت کا اعادہ کیا اور سکوک کے اجرا میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ ملاقات میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹیز کے اجرا کے ذریعے سرمایہ منڈیوں کے لیے معیاری حوالہ جاتی پیمانے تشکیل دینے اور کاروباری اداروں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی۔ دوسری جانب وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مسٹر جہاد ازور  سے ملاقات کی، جس میں ملکی معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں محصولات، مہنگائی، معاشی نمو اور جاری کھاتے کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں علاقائی تنازع کے باوجود پاکستان کی معاشی لچک، توانائی کی خریداری، موسمِ سرما کے لیے پیشگی تیاریوں اور غذائی تحفظ کے لیے کھاد کی وافر دستیابی سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے، فارورڈ فارن ایکسچینج سے متعلق واجبات میں کمی، قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانے اور بیرونی ادائیگیوں کے تقاضے کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے، سرکاری قرضوں میں کمی اور سماجی اخراجات کے تحفظ کے ساتھ معاشی نمو کو تقویت دینے والی ٹیکس اصلاحات آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات میں نجکاری، نجی شعبے کی زیادہ شمولیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے معاشی لچک اور ساکھ مضبوط بنانے پر تبادلۂ  خیال ہوا۔ اس موقع پر اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے، سیاسی عزم اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ معاشی استحکام اور قومی سلامتی کے باہمی تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا۔