سومناتھ پر حملے کی دھمکی دینے والے نے سوچا نہ تھا کہ وہ پہلے حملے ہی میں ڈھیر ہو جائیں گے اور اپنی سلطنت گنوانے اور باعزت زندگی گزارنے کی خواہش ضرور پوری ہو گئی تھی کیونکہ انھوں نے جو کہا تھا وہ کر بھی دکھایا تھا مگر ان کا جانشین بننے کے دعویدار نہ وہ کچھ کر سکے جو محمود غزنوی اور ٹیپو سلطان نے کیا تھا نہ وہ اپنی پارٹی کے انتہائی مضبوط ہونے کے آخری اور مضبوط قلعے کا تحفظ کر سکے جہاں ان کا اقتدار ہی نہیں تحفظ کا آخری سہارا تھا۔ وفاق، پنجاب و کے پی کا چار سال قبل اقتدار گنوانے والی پی ٹی آئی کے نہایت جذباتی وزیر اعلیٰ ایسے غائب ہوئے کہ ایک ویرانے میں کھڑا خصوصی طور بنوایا گیا دو منزلہ کنٹینر اسلام آباد جانے کے لیے کھڑا ہی رہ گیا جس کو تیار کرانے والے کو عشق عمران میں شہادت نہ مل سکی اور نہ ایک ہفتہ اپنے ہی صوبے میں لانگ مارچ گھمانے والے نوجوان وزیر اعلیٰ اپنے دو پیش روؤں کا ریکارڈ توڑ سکے جو ان سے عمر میں بڑے تھے مگر وہ کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ضرور ہوئے تھے ،اپنے صوبے میں نہیں گھومے تھے کیونکہ انھوں نے وہ کر دکھایا تھا جو انھوں نے کہا تھا۔ انھوں نے بھی جذباتی تقاریر کی تھیں مگر دور اندیشی بھی دکھائی تھی۔ اسلام آباد پر چڑھائی کا تقریباً دو ماہ قبل اعلان کرنے والے نے ایک ہفتہ کی ازخود توسیع بھی کی مگر چالیس لاکھ افراد کا لشکر چالیس ہزار بننے سے پہلے ہی ٹینکر چھوڑنے اور دوسروں کے ہتھے چڑھنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی دعوت اور دھمکیاں دے رہے تھے ، مگر وہ اسلام آباد آنے کی کوشش میں سرگرداں اپنے صوبے ہی سے نہ نکل سکے اور طاقت رکھنے والے نے اپنی طاقت دکھا دی۔  اس سے قبل وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور بعد میں علی امین گنڈا پور نے بھی لانگ مارچ اسلام آباد لا کر دکھایا تھا اور جذباتی تقاریر بھی کی تھیں بس دونوں میں فرق یہ تھا کہ پرویز خٹک کے لانگ مارچ کے وقت بانی آزاد مگر علی امین کے لانگ مارچ کے وقت بانی اڈیالہ میں قید تھے مگر ان کے وزیر اعلیٰ اپنے بانی سے ملاقات کر لیتے تھے جن کی مصلحت اور کارکردگی سے مطمئن نہ ہو کر نیا نوجوان اور جذباتی تقاریر کرنے والا ناتجربہ کار اور دور اندیشی سے دور کا وزیر اعلیٰ اپنے کارکنوں کا خون ضرور گرماتا رہا مگر یہ کریڈٹ اسے ضرور جائے گا کہ اس کے لانگ مارچ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لانگ مارچ اسلام آباد تو کیا پنجاب کی سرحد پر بھی نہ پہنچ سکا مگر اس کی دھمکی نے وفاق، پنجاب و سندھ کے سرکاری خزانے کو تقریباً ایک ارب کا مالی نقصان ضرور پہنچا دیا مگر یہ قومی نقصان حکمرانوں کا نہیں عوام کا ہوا جس کی فکر کبھی کسی نے نہیں کی اور فائدہ کنٹینر مالکان کا ہوا ۔ دونوں طرف کے فریق حکمران تھے اگر وزیر اعلیٰ کے پی لانگ مارچ کا تجربہ نہیں رکھتے تھے تو اسلام آباد کے حکمران تجربے کار، دور اندیش اور غیر جذباتی تھے جنھیں اپنے کارکنوں کو جواب نہیں دینا تھا مگر بانی کے لیے کچھ کر دکھانے کے لیے لانے والے وزیر اعلیٰ ایک سال میں اپنے بانی کو سہولیات تو کیا دلاتے وہ خود بھی بانی سے ملاقات نہ کر سکے اور انھی کی وجہ سے بانی کی تینوں بہنیں گرفتار ہوئیں۔ صوبہ ایک سال تعمیر و ترقی، امن سے محروم اور مسلسل دہشت گردی کا شکار رہا۔ اگست میں لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی بھی دہشت گردی نہیں لانگ مارچ کو روکنا اولین ترجیح رہی۔ دہشت گردی بھی جاری رہی مگر دعویٰ رہا کہ اسلام آباد نہیں آنے دیں گے آکر دکھاؤ۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ مذاکرات میں حکومتی موقف دہشت گردی نہیں لانگ مارچ کی منسوخی تھا اور مذاکرات کے آخری وقت تک دونوں طرف سے مذاکرات کی کامیابی کی حتمی کوشش بھی دونوں طرف سے تسلیم بھی کی گئی اور دونوں فریقوں نے مولانا فضل الرحمن کو ثالث بھی مانا مگر مولانا اور پی ٹی آئی کے بقول اسلام آباد نے دکھاوا کیا وہ گورنر راج کا فیصلہ ہی نہیں تیاری بھی کر چکا تھا جسے بہت جلدی تھی جب کہ لانگ مارچ تو صوابی نہ پہنچ سکا تھا مگر چھٹی کے روز دن چڑھتے ہی گورنر راج ایمرجنسی کے ساتھ پشاور پہنچ گیا اور پیپلز پارٹی کے کھاتے میں کے پی میں تیسرا گورنر راج ضرور آگیا۔ مولانا کو چند روز کا موقعہ مل جاتا تو ممکن ہے صورتحال مختلف ہوتی ۔ اب دونوں طرف سے تاویلیں دی جا رہی ہیں اور ایک دوسرے کو ذمے دار قرار دیا جا رہا ہے۔ بانی کے لیے بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ دور اندیش نہیں۔ انھوں نے محمود اچکزئی کی بجائے اگر مولانا اور اپنے پرانے تجربے کار رہنماؤں پر اعتماد کیا ہوتا۔ علی امین کو برقرار رہنے دیا جاتا تو پی ٹی آئی کی کے پی حکومت مدت پوری کر سکتی تھی جو موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کا بہت بڑا سہارا تھی۔ 2022 کی تحریک اعتماد بھی حکومت لانے والوں کے گلے پڑی ہوئی ہے وہ حکومت کچھ اور برداشت کی جا سکتی تھی۔ اس وقت بھی دھمکیاں تھیں کہ کوئی ہمیں نہیں ہٹا سکتا اور اب بھی آخر تک دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ دو تہائی اکثریتی حکومت کوئی نہیں ہٹا سکتا اور پھر آخر شیر آ گیا اور وہ کر دکھایا جس کے کرنے کے لیے اسے اشتعال دلایا جا رہا تھا۔ گورنر راج کی ذمے داری پی ٹی آئی سے زیادہ کے پی حکومت پر ڈالی جا رہی ہے ،اگر تھوڑا مزید تحمل دکھایا جاتا تو بہتر ہوتا، اب نتیجہ کا انتظار رہے گا۔