آزاد جموں و کشمیر کے صدر ڈاکٹر نجیب نقی نے کہا ہے کہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور احتجاج کا معاملہ حل ہونے کے بہت قریب ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر کشمیر ڈاکٹر نجیب نقی نے کہا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کا معاملہ حل ہونے کے بہت قریب ہے، ریاست کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر میرا موجود ہونے کا مقصد بحران کا خاتمہ ہے۔ ڈاکٹر نجیب نقی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تعمیروترقی میری اولین ترجیح ہے، کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے بات چیت جاری ہے، ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات حل کرنے کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے زیادہ تر مطالبات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، چند ایک مطالبات ہیں جن پراتفاق رائے ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت کو وقت دینا چاہیے، اگر معاملات حل نہ ہوں تو احتجاج کا آپشن تو ہر وقت موجود ہی رہتا ہے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ آنے سے کشمیر میں انٹرنیٹ فراہمی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں تعمیر و ترقی کے لیے 28 ارب روپے کا پیکیج لے کر آرہے ہیں، آزادکشمیر کی تعمیر وترقی کے لیے پیکیج میں وفاقی حکومت نے کافی حصہ ڈالا ہے۔ ڈاکٹر نجیب نقی کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کی ترقی کے لیے 100 دن کا پلان بنایا ہے، جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔