ایکسپریس اردو
سرجانی میں ماں اور تین بچوں کا قتل، قاتل کوئی جان پہچان والا ہے، تحقیقاتی ذرائع
سرجانی میں ماں اور اس کے 3 معصوم بچوں کے لرزہ خیر قتل کی تحقیقات جاری ہیں، بچے اسکول سے واپس آنے کے بعد مدرسہ پڑھنے گئے لیکن ٹیوشن نہیں گئے، شبہ ہے کہ مقتولین کو 4 سے 6 بجے کے درمیان قتل کیا گیا، شوہر کا کہنا ہے کہ پولیس نے قاتل پکڑے نہیں اور مجھے بھی قاتل بنادیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سرجانی ٹاؤن تھانے کے علاقے سیکٹر سیون ڈی گھر کے ایک گھر میں 34 سالہ مہوش زوجہ دانش اور اس کے 3 معصوم بچوں 8 سالہ مرحہ، 6 سالہ حسنین اور ڈھائی سالہ اشمیرہ کے لرزہ خیرقتل کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ویسٹ طارق الہیٰ مستوئی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے رات گئے جائے وقوع کا دورہ کیا اور تمام شواہد کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دوران تفتیش پولیس نے متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لے کر ان سے واقعے سے متعلق تفتیش کی جبکہ علاقہ مکینوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق واقعے کے روز مقتولہ خاتون کا شوہر دانش اپنے منیجر کو اس کے گھر ڈراپ کرنے کے بعد 8 بجے اپنے گھر پہنچا تو اسے واقعہ کا علم ہوا، مقتولہ خاتون مہوش کا موبائل فون گھر سے تاحال غائب ہے۔
تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران مقتولہ کے شوہر دانش نے پولیس کو بتایاکہ وقوع کے روز اس نے گھر پہنچ کر بیوی کو کال کی تو موبائل فون گھر میں ہی بج رہا تھا گھر کے مرکزی گیٹ پر لگا لاک چابی سے کھول کر اندر داخل ہوا، بیوی اور بچوں کی لاشیں خون میں لت پت دیکھ کر دانش کے شور مچانے پر اہل محلہ جمع ہوگئے، شبہ ہے اسی دوران کوئی موبائل فون اٹھا کر لے گیا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق وقوع کے روز دانش نے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑا اور چھٹی کے بعد بچے دانش کا دوست حبیب اپنے بچوں کے ہمراہ دانش کے بچوں کو بھی ساتھ لایا اور گھر پر ڈراپ کیا وقوع کے روز بچے مدرسے پڑھنے گئے تھے لیکن ٹیوشن سینٹر نہیں گئے، شبہ ہے کہ مقتولین کو 4 سے 6 بجے کے درمیان قتل کیا گیا۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر میں سامان بکھرا ہوا تھا اور کمرے میں بیڈ پر بچوں کے یونیفارم پر الماری سے نکالا ہوا سامان پڑا تھا، واردات کو ڈکیتی کی واردات کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی۔ گھر کے دروازے کا لاک بھی درست حالت میں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزم جان پہچان والا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے گلی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے ڈی وی آر بھی حاصل کیے بدقسمتی سے علاقے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کیمروں کی ریکارڈ بند تھی، پولیس نے علاقے کی جیوفیسنگ بھی کرائی ہے جبکہ پولیس نے مقتولہ خاتون اوراس کے شوہر کے موبائل فون کا سی ڈی آر بھی حاصل کرلیا ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مقتولہ خاتون کے نام پر 2 موبائل فون سم رجسٹرڈ ہیں ایک موبائل فون سم مقتولہ خاتون کے زیراستعمال تھی، مقتولہ خاتون کالز کے لیے زیادہ تر انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی۔ دوسری سم صرف انٹرنیٹ کے لیے استعمال کی جارہی تھی۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کیے جانے والے ماں اور بچوں کی لاشوں سے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں، ڈی این اے نمونوں کی رپورٹ میں مشکوک ڈی این اے ملنے کا بھی امکان ہے، کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے کے بعد ہی مقتولین کو قتل سے قبل نشہ آور چیز دینے یا نہ دینے کی تصدیق ہوسکے گی۔ تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی تکینکل بنیادوں پر تفتیش کی جا رہی ہے، جلد حقائق سامنے لائیں گے۔
دوسری جانب مقتول خاتون کے شوہر دانش نے بتایا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، وقوع کے روز اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی تھی اور پولیس نے مجھے ہی پکڑ کر ایک جانب بٹھا دیا، پولیس نے بچوں اور بیوی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا، پولیس نے مجھ سے ہی تفتیش شروع کردی، پولیس کو بیوی کا موبائل فون تلاش کرنے کا کہا لیکن پولیس نے مجھے ہی بٹھا دیا، پولیس نے اپنے گھروالوں سے تک ملنے تکنہیں دیا اور مجھے قاتل بنا دیا، مجھے اٹھا کر تھانے لے گئے مجھ سے تفتیش کرتے رہے ہیں میں ان کو کیا بتاتا میری تو زندگی اجڑگئی۔
قتل کیے جانے والے بچوں کی دادی کا کہنا تھا کہ پولیس نے شک کی بنیاد پر اس کے داماد ہمایوں کو حراست میں لے لیا اور اس سے تفتیش کر رہی ہے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے پورا خاندان ایک ساتھ مل کر ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا ہمارا مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اصل قاتلوں کا سراغ لگائے نہ کے بلا جواز ہمارے رشتہ داروں کو نہ کرے ۔
مقتولہ خاتون مہوش کی والدہ اور بھائی نعمان نے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے جو بھی اس فعل میں ملوث ہے اس کا سراغ کر اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.