ایکسپریس اردو
فیکٹ چیک: ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق زیر گردش ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر نیوز اداروں اور کئی صارفین کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے حقیقت سامنے آگئی ہے۔
آئی ویریفائی پاکستان کے مطابق سوشل میڈیا پر خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے 24 اگست 2026 سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کی جا رہی ہے اور اس دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر پہلی نشست ہے۔
ویڈیو میں جس شخص کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ظاہر کیا گیا ہے وہ ایک مذہبی و علمی درس کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
تاہم اب فیکٹ چیک کے ذریعے اس ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی ہے اور مذکورہ ویڈیو 2 ستمبر 2020 کی پرانی ویڈیو ہے۔
نیوز رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ کو جس حملے میں شہید کیا گیا تھا اسی دوران ایک یا دونوں ٹانگوں پر زخم آئے تھے اور ان کے چہرے پر بھی زخم آئے تھے، حملے کے بعد سے عوامی سطح پر ان کے ٹھکانے، صحت کی حالت اور حکمرانی کی صلاحیت کے حوالے سے بہت سے سوالات اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
ایران کے سرکاری نیوز اداروں یا پلیٹ فارمز کی جانب سے اس حملے کے بعد سے ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری 2026 کے اواخر میں ایران پر کیے گئے اچانک حملے میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دیگر اہم عہدیداروں کے ہمراہ شہید کیا گیا تھا اور اس کے بعد علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔
ویڈیو منظرعام پر کیسے آئی؟
روسی سرکاری نیوز نیٹ ورک آرٹی نے پیر کو ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر بننے کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر آئے ہیں۔
پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ ‘ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو فوٹیج میں پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے اور اس کو ایرانی میڈیا کی جانب سے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر جاری کی گئی ہے، فوٹیج میں انہیں تعلیمی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے’۔
مذکورہ پوسٹ کو دو لاکھ 83 ہزار 800 افراد نے دیکھا، اسی طرح متعدد بھارتی خبررساں اداروں نے بھی شیئر کیا اور اس میں اسی طرح کا دعویٰ کیا گیا، ان اداروں میں دی فنانشل ایکسپریس، بی ڈی این نیوز 24 اور ٹائمز ناؤ شامل ہیں۔
ویڈیو ترک خبررساں ادارہ آر ٹی ای اردو نے بھی اسی کیپشن کے ساتھ جاری کیا اور بتایا کہ ایرانی خبررساں ادارہ فارس ایجنسی نے ملاقات کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای موجود ہیں اور وہ اسٹریٹجک معاملے کی سربراہی کر رہے ہیں۔
اس پوسٹ کو 26 ہزار 800 افراد نے دیکھا۔
اسی طرح پاکستانی نیوز چینلز 24 نیوز ایچ ڈی اور ڈان نیوز نے بھی اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا، اس کے علاوہ دیگر کئی سوشل میڈیا صارفین نے بھی ایکس، انسٹاگرام، لنکڈ ان اور فیس بک پر شیئر کیا اور کیپشن بھی یہی استعمال کیا۔
فیکٹ چیک
وائرل ویڈیو کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی سپریم لیڈر بننے کے بعد عوامی سطح پر اجلاس میں شرکت جھوٹ پر مبنی ہے اور اس کے بڑے پیمانے پر وائرل ہونے اور عوام کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کرنے کی وجہ سے فیکٹ چیک کیا گیا۔
فیکٹ چیک کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ ویڈیو ایران کی سرکاری خبرایجنسی اسلامی ری پبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ (آئی آر آئی بی) سے منسلک ینگ جرنلسٹس کلب نے 2 ستمبر 2020 کو جاری کی تھی اور اس کی ہیڈ لائن تھی کہ ایک ملاقات جہاں انقلابی لیڈر تربیت دے رہے تھے، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر جو سپروائزر کے عہدے پر ہیں۔
اسی طرح ایران کی دیگر خبرایجنسیاں طرح مشرق نیوز نے بھی ویڈیو شیئر کی جو 2 ستمبر 2021 کی ہے اور ہیڈلائن تھی کہ انقلابی لیڈر کے ساتھ ملاقات جہاں وہ انسٹرکٹر تھے جبکہ فارس نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ بسیج نیوز میں 24 اگست 2026 کو یہ ویڈیو شیئر کی گئی تاہم اس میں لکھا گیا کہ انقلابی لیڈر جب بطور تعلیمی انسٹرکٹر خدمات انجام دے رہے تھے اس وقت کی ملاقات، یہ فوٹیج اس وقت کی ہے جب ان کے حوالے سے لیڈر بننے سے متعلق تصورات پائے جاتے تھے۔
پوسٹ کے مطابق ویڈیو حال ہی میں شیئر کی گئی ہے لیکن یہ پرانی ہے، جب مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈڑ نہیں تھے اور مزید برآں ویڈیو مقامی اور بھارتی نیوز اداروں نے فارس کے واٹرمارک کے ساتھ شیئر کی ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق ویڈیو 2 ستمبر 2020 کی پرانی ہے اور انہیں ایک تعلیمی مجلس میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
View this post on Instagram
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.