ایران کو اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کی حملے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر چینی اداروں کی جانب سے فراہم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چینی اداروں نے ایران کو اردن میں واقع موافق السَلطی ایئر بیس کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں جہاں امریکی فوجی موجود تھے۔ اسی اڈے پر 17 جولائی کو ایران نے میزائل حملہ کیا تھا جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ واقعے کو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ایران کے اہم ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے چینی اداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ الزام عائد کیا کہ چینی حکومت براہ راست اس حملے میں ملوث تھی۔ تاہم اس معاملے نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق حملے سے قبل اور اس کے بعد اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر ایران تک پہنچائی گئی تھیں۔ ان تصاویر سے مبینہ طور پر ایران کو اڈے کی صورتحال اور حملے کے اثرات کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی تھیں۔ چین سے امریکی حکام کا رابطہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے اس معاملے کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جب امریکی حکام نے چینی حکام سے سیٹلائٹ تصاویر ایران کو منتقل کیے جانے کے بارے میں سوال کیا تو چینی حکام نے اس منتقلی کے ثبوت طلب کیے۔ چینی حکام نے مبینہ طور پر اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا کہ چینی کمپنیوں نے ایران کو یہ سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی چینی کمپنیاں یا ادارے مبینہ طور پر تصاویر کی فراہمی میں ملوث تھے۔ ٹرمپ، شی جن پنگ ملاقات میں معاملہ زیر بحث آنے کا امکان وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ آئندہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں شی جن پنگ کی میزبانی کرنے والے ہیں۔ ایسے میں ایران کو مبینہ طور پر چینی سیٹلائٹ معلومات کی فراہمی کا معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان حساس سکیورٹی امور میں شامل ہو سکتا ہے۔ چین پر براہ راست الزام نہیں امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ چین کو براہ راست ایرانی حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے صرف یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا ہے کہ آیا چینی تجارتی یا دیگر اداروں نے ایران کو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں۔ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے ایران کی فوجی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن میں چینی تجارتی سیٹلائٹ کمپنیوں کی سرگرمیوں اور حساس فوجی مقامات کی تصاویر کی ممکنہ منتقلی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے لیے نیا حساس معاملہ امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے ہی کئی محاذوں پر کشیدہ ہیں۔ تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، جدید ٹیکنالوجی، تجارتی پابندیوں اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے تعلقات کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکی حکام یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ چینی اداروں نے ایران کو امریکی فوجی اڈے کی حساس نوعیت کی تصاویر فراہم کی تھیں تو یہ معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سکیورٹی تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ تاہم فی الحال دستیاب رپورٹ میں چینی اداروں کی شناخت یا تصاویر کی منتقلی کے حوالے سے حتمی عوامی ثبوت سامنے نہیں لائے گئے ہیں، جبکہ چینی حکام نے بھی اس الزام کو تسلیم نہیں کیا۔