پاکستان کے معاشی اور سیاسی منظرنامے میں دو الگ دنیائیں آباد دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ ہے، جسے دولت، اختیار اور اثرورسوخ کی بدولت وسائل اور ریاستی اداروں تک آسان رسائی حاصل ہے، جب کہ دوسری طرف عوام کی اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی سے نبردآزما ہے۔ عام شہری اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا، قطاروں میں انتظار کرتا اور کبھی سفارش تو کبھی رشوت کی رکاوٹوں سے دوچار ہوتا ہے۔ اصل سوال امیر اور غریب کی موجودگی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایک ہی ملک کے شہریوں کی اہمیت اور حقوق کا تعین ان کی دولت اور تعلقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو یہ محض معاشی ناہمواری نہیں، ریاست اور شہری کے درمیان انصاف پر مبنی تعلق کے فقدان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں ’’خاص آدمی‘‘ کسی ایک طبقے یا پیشے تک محدود نہیں۔ اس تصور میں بڑے جاگیردار، بااثر سیاسی خاندان، کاروباری گروہ، مالیاتی مفادات رکھنے والے افراد اور بعض ایسے ریاستی عہدیدار شامل ہو سکتے ہیں جو دولت اور اختیار کو ایک دوسرے کی قوت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ہر سیاست دان، افسر یا دولت مند کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ مسئلہ دولت کمانے یا کامیابی حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشی طاقت اجتماعی فیصلوں پر غیرمتناسب اثرانداز ہو، سرکاری منصب ذاتی مفاد کا ذریعہ بن جائے اور عام شہری ان مواقع سے محروم رہے جو بااثر افراد کے لیے معمول کی بات ہیں۔ پاکستان میں دولت، آمدنی، زمین، کاروباری ملکیت اور سیاسی اختیار کی حقیقی تقسیم سمجھنے کے لیے جامع اور قابلِ تصدیق اعدادوشمار ضروری ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے گھریلو آمدنی و اخراجات کے سروے اور عالمی اداروں کی معاشی ناہمواری سے متعلق تحقیقات اس ضمن میں اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ تاہم غیررسمی معیشت، غیرظاہر شدہ اثاثوں اور پیچیدہ کاروباری ڈھانچوں کے باعث دولت کے ارتکاز کی مکمل پیمائش مشکل رہتی ہے۔ اس کے باوجود شہریوں کی آمدنی، ٹیکسوں کے تناسب، زمین کی ملکیت اور تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی میں فرق معاشی ناہمواری کی واضح نشان دہی کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر محض نعروں کے بجائے شواہد اور ٹھوس حقائق کی بنیاد پر بحث کی جائے۔ خاص آدمی کی قوت کا ایک بڑا ذریعہ سیاسی اور انتظامی فیصلوں تک رسائی ہے۔ عام شہری کسی دستاویز کی تصدیق کے لیے کئی مراحل طے کرتا ہے، جب کہ بااثر شخص کا کام فون یا سفارش سے ہو سکتا ہے۔ ایک متوسط یا غریب خاندان بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی صرف کر دیتا ہے، جب کہ مراعات یافتہ طبقے کو معیاری تعلیمی اداروں، جدید طبی سہولتوں اور محفوظ رہائش تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح معاشرے میں دو مختلف دنیائیں جنم لیتی ہیں، ایک میں شہری بقا کی جدوجہد کرتا ہے اور دوسری میں دولت مشکلات کم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس تقسیم کے اثرات اگلی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ خوش حال خاندان اپنے بچوں کو بہتر تعلیم، تربیت، روابط اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرتے ہیں، جب کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے بچے ناقص تعلیمی سہولتوں، غذائی قلت اور معاشی دباؤ کے باعث اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے نہیں بڑھ پاتے۔ یوں ناہمواری صرف آمدنی کا فرق نہیں رہتی بلکہ امکانات کی ناہمواری بن جاتی ہے۔ حقیقی مساوات کا تقاضا یہ نہیں کہ سب کی آمدنی یکساں ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہر بچے کو اپنی صلاحیت کے اظہار اور ترقی کے لیے مناسب مواقع میسر ہوں۔ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، مہنگی تعلیم، علاج کے اخراجات اور رہائش کے مسائل کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ آئی ایم ایف کی 2024 کی رپورٹ میں غربت کا تخمینہ تقریباً 40 فیصد بیان کیا گیا تھا، تاہم غربت کی شرح استعمال ہونے والے پیمانے اور متعلقہ سال کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی ایک تخمینے کو ہر دور کی حتمی شرح قرار دینا درست نہیں۔ اس کے باوجود جب بڑی تعداد میں شہری خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری محسوس کرے تو معاشی ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم پر سوال اٹھانا ناگزیر ہے۔