ایکسپریس اردو
آئین کا فلسفہ اور بنیادی ڈھانچہ
ہمارا آئین بین الاقوامی اعتبار سے دنیا کا ماڈرن آئین ہے۔اس آئین کی بنیادیں اینگلو سیکسن قانون سے ماخوذ ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بر ِ صغیر میں انگریزوں کی حکومت رہی۔ مگر کیا وجوہات تھیں کہ ہندوستان کا آئین نہ ہی کبھی تعطل کا شکار رہا اور نہ ہی کسی نے آئین کو توڑا، جب کہ سیاسی طورپر ہندوستان میں بھی بڑے نشیب و فراز آئے۔
ہندوستان میں ایک بیانیہ بائیں بازو کا تھا۔ اندرا گاندھی ایسی حکمران تھیں جنھوں نے آئین میں وہ تبدیلی لانے کی کوشش کی ’’روٹی، کپڑا اور مکان ‘‘ کے بیانیے پر جس سے جمہوریت خطرے میں پڑ گئی۔
ان ترامیم کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے آوازیں بلند ہوئیں اور ہندوستان کے آئین کے تسلسل میں دنیا کا عظیم اور بہترین مقدمہ کیشوا نندا کیس AIR 1973 SC کی صورت میں رپورٹ ہوا۔یہ مقدمہ لگ بھگ نو سو صفحات پر مشتمل ہے۔ایسا تاریخی فیصلہ ہندوستا ن اور پاکستان کی عدالتوں میں شاید کبھی تحریر نہیں ہوا۔
اس مقدمے میں کورٹ نے اس بات عندیہ دیا ہے کہ ’’ محترمہ اندرا گاندھی ‘‘آپ بہ حیثیت ہندوستان کی وزیر اعظم آئین میں ترامیم تو کرسکتی ہیں لیکن ترامیم کے ذریعے اس آئین کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچاسکتیں۔
1971 میں پاکستان دو لخت ہوا اور اس بات کا فائدہ اندرا گاندھی صاحبہ کو ہوا، ان کو انتخابات میں بھاری مینڈیٹ ملا،وہ مقبولیت کی آخری حدوں تک پہنچ گئیں، وہ پارلیمان میںدو تہائی اکثریت لے چکی تھیں،پھر انھوں نے ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی جس میں کلدیپ نیئر اور ایسے کانگریس کے دوست پابند سلاسل ہوئے،مگر آئین یہ جنگ جیت گیا۔
کچھ وقت کے لیے عدالتی آمریت ضرور آئی جس کو ہم وکیل جوڈیشل ایکٹو ازم کہتے ہیں اور پھر اسی عدالت میں جوڈیشل ایکٹوازم کو جوڈیشل فاشزم کہہ کر رد کردیا گیا۔کہتے ہیں نہ کہ جو بھی ہوا وہ خوب ہوا ۔پھر ہندوستان کے آئین کو Basic Structure Theory ملی۔
آئین میں ترامیم لانا، آئین کا ایک انتہائی حساس پہلو ہے اور یہ استحقاق صرف پارلیمان کی دو تہائی اکثریت کو ہی حاصل ہے ، یہاں پر لاگو ہوتی ہے آئین کی Basic Structure Theoryجو آئین میں تحریری طور پر موجود نہیں ہوتی بلکہ وہ Doctrine of Implied Limitation کے تحت موجود ہوتی ہے۔
اس ڈاکٹرائن کو آج سے تین سو سال قبل امریکا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سر جان مارشل نے اپنے، ہندوستان کی طرح کیشوا نندا جیسے کلیدی مقدمے، Marbury v. Madison میں دریافت کیا جب پارلیمان اعلیٰ عدالتوں سے جوڈیشل ریویو کا حق چھین رہی تھی، تب سر جان مارشل نے کہا کہ ’’جو چیز آئین سے تصادم میں ہے وہ Void ab initio ہے اور یہ بات آئین میں تحریر کیے بغیر آئین میں موجود ہے۔
یہاں سے شروع ہو تا ہے جوڈیشل ریویو کا سفر، قانون، Norm اور آئین میں ترامیم کو اس Canon سے پرکھنے کا۔ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس بات کو پرکھے کہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے تصادم میں ہے کہ نہیں،اگر وہ ترمیم آئین کوواضح کرتی ہے ، اس کی ارتقاء کو وسیع کرتی ہے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے تو منظور اور اگر ایسا نہیں ہے اور وہ ترمیم بنیادی حقوق کے منافی ہے، فیڈلرازم کو نقصان پہنچاتی ہے،جوڈیشل ریویو کو کمزور کرتی ہے،جمہوریت کو نقصان پہنچاتی ہے، سیکولرازم کو نقصان پہنچاتی ہے جوکہ آئین کی روح اور بنیادی ڈھانچہ ہے تو ایسی ترمیم Void ab initio ہے۔
جب امریکی عدالتوں نے Doctrine of Implied Limitation کومکمل کیا تو ہندوستان میں کیشونندا کیس میں نانی پالکھیوالا سے جو اس مقدمے میں وکیل تھے، ہندوستان کی بارہ ججوں پر مشتمل بینچ نے یہ سوال کیا کہ آپDoctrine of Implied Limitationکہاں سے لے کر آئے ہیں، جس کا ریفرنس انھوں یہ دیا کہ وہ یہ ڈاکٹرائن امریکا کی جیورسپروڈنس سے لے کر آئے ہیں۔جب ہندوستان کی عدالت نے اس کے تسلسل پر ریسرچ کی تو یہ بات علم میں آئی کہ ہندوستان کا آئین بھی امریکا کے آئین سے جنم لیتا ہے بلکہ ہندوستان کا آئین امریکا کے آئین سے زیادہ مدلل اور ٹھوس ہے۔ اس کی وجہ تھے ڈاکٹر امبیڈ کر جو نہ صرف قانون و آئین کے ماہر تھے بلکہ وہ پارلیمان کے ممبر بھی تھے۔پارلیمان اور ہندوستان و پاکستان کی تحریک میں وکلاء کا بھرپور کردار تھا۔
اندرا گاندھی کی ایمرجنسی ، جوڈیشل ایکٹوازم کے بعد ہندوستان کے آئین کو بیس سال بعد آر، ایس،ایس سے خطرہ لاحق ہوا۔مودی صاحب دو تہائی اکثریت کے مالک تھے۔ان کی سیاست کی بنیاد مسلمان اور دیگر اقلیتوں سے نفرت اور ہندو انتہا پرستی ، پاکستان سے مسلسل جنگ،بابری مسجد کو مسمار کرکے رام مندر کی بناوٹ اور پھر ایک ٹھوس آئین میں ترمیم کیے بغیر کشمیری مسلمانوں کی رائے کے آرٹیکل370 میں ترمیم لا کر کشمیر کو ہندوستان میں ضم کردیا۔مودی کے اس مجرمانہ فعل میں ہندوستان کی عدالتیں بھی مجرمانہ طور پر خاموش رہیں۔ کسی عدالت سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی، پھر ہوش میں تب آئیں ،جب پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔
حال ہی میں ہندوستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جین زی کے ایک مقدمے کی پروسیڈنگ میں ان کو کاکروچ کہا۔ ایسے حالات میں سیکولر آئین کے محافظ خود عدالت بن جاتے ہیں، مگر نہیں بنے بلکہ اس آواز کی قیادت ایک پچیس سالہ لڑکی نیہا بورا نے کی ۔اب ایک بار پھر دائیں بازو کے فاشزم کو آئین شکست دے گا،جس طرح ماضی میں بائیں بازو فاشزم کو دی۔
اسفند ر یار ولی کیس، ظفر شاہ کیس، الجہاد ٹرسٹ کیس اور خصوصاً ڈسٹرکٹ بار راول پنڈی کیس 2015 PLD 401 کے طور پر رپورٹ ہوا، جیسے مقدمات ہمارے آئین کے بنیادی ڈھانچے کی تشریح کی، آئین کی نمایاں خصوصیات salient features کو وضع کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل Article 239 (5) کے تحت پارلیمان کے پاس کردہ کسی قانون و آئین میں ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا،لیکن عدالت نے اگرایسا کیا تو آئین کے اندر Implied Limitation کے تحت موجود جوڈیشل ریویو کا اختیار ختم ہو جائیگا۔ہمارے آئین کے بہت سے salient features تحریری طور پر آئین میں موجوہیں اور بہت سے Impliedly موجود ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگرہمارا آئین دنیاکاماڈرن آئین ہے تو کیا بہ حیثیت ایک سماج ہم اتنے ماڈرن ہیں؟ 1947 میں ہندوستان نے لینڈریفارمز متعارف کروائیں۔ہندوستان، ولبھ بھائی پٹیل کو مانتا ہے کہ راجاؤں اور مہاراجوں کا خاتمہ کیا۔ اس تکراری بحث کو چھوڑ کر جو اہم بات میں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب سے پاکستان بنا ہے یہاں لینڈ ریفارمز نہیں آئیں۔
یہاں سے انگریز تو چلا گیا مگر ان کی باقیات موجود رہیں۔یہاں پر سول ادارے آزادی کے بعد ختم ہونا شروع ہو گئے،آزادی کے بعد جناح ایک سال بھی زندہ نہیں رہ سکے، بیماری کے دوران جس ایمبولینس میں وہ کوئٹہ سے کراچی سفر کر رہے تھے ، وہ راستے میں ہی خراب ہو گئی اور اسی دوران وہ انتقال کر گئے ۔
ان کی بہن بھی اسی طرح ایک رات، اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔لیاقت علی خان ون پارٹی رول بنانے کی پاداش میں بیوروکریٹس کے ہاتھوں مارے گئے اور مرنے سے پہلے ہمیں امریکا کے ہاتھوں میں سرد جنگ کا مہرہ بنا گئے۔اس طرح سے امریکی سفیر یہاں کا وائسرائے بنا۔سرد جنگ میں امریکی مفادات کے حق میں جمہوری یا سول ادارے نہیں بلکہ آمریت بہتر تھی۔
جب آئین میں خلاء پیدا ہوتا ہے تو وہاں جیورسپروڈنس یعنی آئین کا فلسفہ کام کرتا ہے۔ doctrine of necessity نظریہ ضرورت کی داغ بیل سپریم کورٹ کے جسٹس منیر خود ہی ڈال گئے۔ انھوں نے کہا کہ جب انقلاب آتا ہے تو انقلاب خود ہی راہیں متعین کرتا ہے پھر آئین خود کچھ نہیں کر سکتا اور جہاں آئین خاموش ہو جاتا ہے وہاں نظریہ ضرورت یقینا آتا ہے۔پھر جب آپ بھی خاموش رہتے ہیں تو 1971 جیسے سانحات جنم لیتے ہیں اور یہ آئین کا فلسفہ یعنی جیورسپروڈنس کہتا ہے،یہ بحث آنیوالے دو چار مضامین تک جاری رہے گی تاکہ میں آئین پر ایک واضح اور جامع بحث کر سکوں۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.