خیبرپختونخوا میں سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے شعبہ تعلیم تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ اسکولوں میں فرنیچر، پینے کا صاف پانی اور موسم سے بچاؤ کے لیے چھتیں تک موجود نہیں ہیں۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حال اسکولوں کی ویڈیوز نے سابقہ حکومت اور انتظامیہ کے بلند و بانگ دعوؤں کا پول کھول دیا، والدین اور علاقہ مکینوں نے زبوں حال اسکولوں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو اور بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین کے مطابق اسکولوں میں طلبہ و طالبات برآمدوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم فوری نوٹس لے کر تعلیمی ماحول بہتر بنائے۔