امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس مذاکرات کی میز سے دور ہوجائے۔ ٹروتھ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہورہی ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات بھی شامل ہیں۔ https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/117463828588421761 ان کے مطابق متعلقہ دستاویز پر اس وقت دستخط کرنے سے مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے، تاہم وہ بعد میں کسی بھی وقت اس پر دستخط کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس ایران کی مدد اس حد تک نہیں کررہا جتنی وہ کرسکتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ صورت حال برقرار رہے۔ امریکی صدر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر روس میں ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے عالمی ڈیزل مارکیٹ، خصوصاً امریکا میں کسانوں، مویشی پالنے والوں اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹرمپ نے زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں عدم دلچسپی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو یورپ سے بھاری مالی امداد مل رہی ہے جبکہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن بھی ماضی میں اسے امداد فراہم کرچکے ہیں۔ ان کے بقول یوکرین اپنی سرزمین کا بڑا حصہ کھو چکا ہے اور اس کی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ تاہم، ان کے الزامات اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔