ایکسپریس اردو
وزیر توانائی کا صارفین کو اضافی اور غلط بل بھیجنے پر ڈسکوز کیخلاف کارروائی کا حکم
وزیر توانائی اویس لغاری نے ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں ) کی جانب سے صارفین کو ڈیٹیکشن کی مد میں اضافی اور غلط بل ڈالنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سخت تنبیہ کی کہ آئندہ کسی بھی صارف کو غلط ڈیٹیکشن بل نہیں دیا جائے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر توانائی کی زیر صدارت ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر نے سخت اور جامع اصلاحاتی فریم ورک کے نافذ کرنے کی باضابطہ ہدایات جاری کردی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری کی روک تھام بلا شبہ قومی ترجیح ہے لیکن بے گناہ شہریوں پر من مانا بوجھ ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ اس فریم ورک کے تحت فیلڈ عملے کے صوابدیدی اختیارات کو مکمل طور پر ضابطے کا پابند بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو تحفظ ملے اور ساتھ ہی ساتھ بجلی چوری کے خلاف ایمانداری سے فرائض انجام دینے والے افسران کے راستے میں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر کی ہدایات کی روشنی میں پاور ڈویژن تمام ڈسکوز کو پابند کر رہی ہے کہ اب ڈیٹیکشن بلنگ صرف اور صرف پی آئی ٹی سی کے مرکزی آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی عمل میں لائی جائے گی۔ فیلڈ عملے یا ایس ڈی اوز کی جانب سے دستی اور من مانے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مینوئل طریقے سے بل ڈالنے کے عمل کو باضابطہ طور پر سنگین مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا جس پر متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے بڑی سزائیں دی جائیں گی۔
اس فریم ورک کے تحت کنزیومر سروس مینوئل میں بھی جامع ترامیم کی تجاویز آئندہ کچھ دنوں میں پیش کی جائیں گی تاکہ ہر اقدام کو مخصوص اور واضح مدت کا پابند بنایا جا سکے۔ نئے فریم ورک کے تحت خراب یا جلے ہوئے میٹرز کو فوری طور پر یا زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکلز کے اندر تبدیل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ اس دوران اوسط بلنگ کا بوجھ بھی صرف دو ماہ تک ہی محدود رہے گا۔
میٹر کی رفتار سست یا تیز ثابت ہونے کی صورت میں ریکوری یا کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ کو سختی کے ساتھ پچھلے دو بلنگ سائیکلز تک محدود رکھا جا سکے گا۔ اسی طرح ڈیٹیکشن بلنگ کے دورانیے کو بھی واضح ضابطے میں لاتے ہوئے غیر قانونی استعمال پر عام صارفین کے لیے ڈیٹیکشن بل کا دورانیہ تین بلنگ سائیکلز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رجسٹرڈ صارفین کے لیے ڈیٹیکشن کی زیادہ سے زیادہ حد 6 ماہ جبکہ غیر رجسٹرڈ صارفین کے لیے 12 ماہ تک محدود کی جائے گی۔
اصلاحاتی نظام کے تحت ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ان کی کسٹمر سروسز کمیٹیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر ماہ ڈیٹیکشن بلوں کی درستگی، شفافیت اور جائز ریکوری کا خود باقاعدگی سے تفصیلی جائزہ لیں گی۔
وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت کا مقصد بجلی کے شعبے کو صارف دوست بنانا اور ہر سطح پر مکمل جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔ صارفین کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون اور قواعد و ضوابط سے بالاتر ہو کر عوام کا معاشی استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ڈیٹیکشن بل (Detection Bill) اضافی چارجز یا یونٹس پر مشتمل وہ بل ہے جو بجلی تقسیم کار کمپنیاں صارف کو اس وقت بھیجتی ہیں جب میٹر میں گڑبڑ، بجلی چوری، میٹر کے سست چلنے، یا قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ ہوتا ہے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.