پنجاب میں موبائل پولیس اسٹیشن وین منصوبے کے تحت شہریوں کو پولیس سے متعلق مختلف خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا آغاز کردیا گیا، صوبے کے مختلف اضلاع میں 33 موبائل پولیس اسٹیشن فنکشنل ہوں گی۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق موبائل پولیس اسٹیشن وین کو 15 پر موصول ہونے والی کالز کے ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں بھیجا جائے گا جبکہ یونیورسٹیوں اور گرلز کالجز میں بھی وینز شیڈول کے مطابق خدمات فراہم کریں گی۔ موبائل پولیس اسٹیشن وین میں پولیس سے متعلق 14 مختلف سروسز دستیاب ہوں گی، جن میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست، آن لائن ای ٹیگنگ، گمشدگی کی رپورٹ، کریمنل ریکارڈ چیکنگ اور کرایہ داروں کا اندراج شامل ہے۔ وین میں گھریلو اور دکانوں کے ملازمین کا اندراج، پولیس اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ویریفکیشن سمیت لرنر لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید، ڈپلیکیٹ اور انٹرنیشنل لائسنس کے اجرا کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق موبائل پولیس اسٹیشن کی آمد کا شیڈول سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے جاری کیا جائے گا جبکہ متعلقہ علاقوں کی مساجد میں بھی پیشگی اعلانات کیے جائیں گے۔ ہر موبائل پولیس اسٹیشن میں ایک سب انسپکٹر انچارج، فیلڈ سپروائزر، سینئر اسٹیشن اسسٹنٹ، مرد اور خاتون کانسٹیبل تعینات ہوں گے۔ سینئر اسٹیشن اسسٹنٹ آئی ٹی آپریشنز، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس اور آن لائن اندراجات کی نگرانی کرے گا جبکہ مرد و خاتون کانسٹیبل شہریوں کی رہنمائی کریں گے۔ بریفنگ کے مطابق پنجاب میں 6 موبائل پولیس اسٹیشن خواتین سے متعلق امور کے لیے مخصوص ہوں گی، جہاں خواتین کے لیے مخصوص عملہ تعینات ہوگا۔ ہراساں کرنے، تشدد اور خواتین و بچوں سے بدسلوکی جیسے حساس معاملات میں بھی خواتین اسٹاف شہریوں کو سہولت فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ موبائل پولیس اسٹیشن وین کا مقصد پولیسنگ کی خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانا اور شہریوں کے وقت اور سفری اخراجات کی بچت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل پولیس اسٹیشن عوام اور پولیس کے درمیان فاصلہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔