ایکسپریس اردو
خوراک کی کمی اور ممکنہ اثرات
ایک طرف ترقی سے جڑے حکومتی معاشی دعوؤں کی کہانی ہے جو سب کچھ اچھے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ حکمرانی سے جڑا یہ طبقہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ہم معاشی میدان میں پیچھے کی جانب جا رہے ہیں یا لوگوں کی معاشی حالت نہیں بدل رہی، حکمرانی سے جڑے افراد اور عام آدمی کے درمیان تضاد اور خلیج پائی جاتی ہے، یہی وہ کڑوا سچ ہے ۔ملک کے سیاسی اور معاشی ماہرین کے بقول پاکستان اس وقت ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ایک طرف معاشی بحران کی لکیریں گہری ہیں تو دوسری طرف یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ لوگوں میں پہلے کے مقابلے میں خوراک میں کمی آئی ہے۔
ایک بنیادی وجہ لوگوں کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن ہے اور اس عدم توازن نے لوگوںکی زندگیوں میں معاشی فوائد سمیت خوراک کی کمی پیدا کی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقت کی اس حکمرانی کے نظام میں طبقاتی خلیج بھی گہری ہوتی جا رہی ہے اور خوراک کی کمی کا مسئلہ کمزور اور غریب طبقات کو درپیش ہے۔اس لیے اس طبقاتی معاشی کشمکش نے بھی ہمیں خوراک کے بحران میں ڈال دیا ہے اور اس بحران کی وجہ سے لوگوں کی بنیادی صحت بالخصوص بچوں اور بچیوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہیں۔
بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چھ برس کے دوران شہری اور دیہی علاقوں میں تقریباً تمام اقسام کی خوراک کے استعمال میں کمی ہوئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے لوگ جو خوراک جتنی مقدار میں کھا رہے تھے اس میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اوراس کی بنیادی وجہ لوگوں کے معاشی حالات ہیں جنھوں نے لوگوں کو معاشی سمجھوتوں پر مجبور کردیا ہے۔
ایک مضمون’’پاکستان بھوکا ہے‘‘میں یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں جن کے بقول شدید غذائی عدم تحفظ گھرانوں کی شرح عملا 2019میں15.92فیصد تھی جب کہ2025میں یہ شرح بڑھ کر 24.35فیصد ہوگئی ہے۔اس عرصے میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے گھرانوں کی شرح2.37فیصد سے بڑھ کر 5.4فیصد تک ہوگئی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ گھرانے کسی نہ کسی صورت میں غذائی قلت کا شکار ہیں۔اسی کالم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسئلہ خوراک کی عدم دستیابی کا نہیں بلکہ لوگوں کی قوت خرید میں کمی ہے۔چالیس فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔
لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔اگر ہم خوراک کی کمی سے جڑی امکانی وجوہات کو دیکھیں تو اس میں چند اہم وجوہات شامل ہیں۔ان میں اول، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات، دوئم، اقتصادی عوامل اور مہنگائی، سوئم، پالیسی اور حکومتی مسائل،چہارم، بری گورننس،پنجم، زرعی ساختی مسائل سمیت آبادی میں تیزی سے اضافہ جو زرعی نمو سے زیادہ ہے اور مقامی عدم استحکام شامل ہیں۔اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے گورننس کے نظام میں حکومتی ترجیحات میں عام طبقہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اسی کی معاشی حالت سمت اس کی زندگی میں موجود خوراک کی کمی کو دور کرنے کا کوئی واضح اور شفاف ایجنڈا رکھتی ہے۔ اس بنیاد پر ہمارے گورننس کے نظام پر تنقید مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔
ایک طرف خوراک کی کمی کا بحران اور دوسری طرف صاف اور اعلی خوراک کی کمی نے ان کی زندگیوں میں مختلف بیماریوں کو جنم دیا ہے۔جب خاص طور پر بچوں کو بہتر اوراعلی معیار کی خوراک نہیں ملے گی تو وہ کس بنیاد پر تندرستگی کی طرف بڑھ سکتے ہیں ۔ حکومتی سطح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے عمل نے بھی لوگوں کی غربت کو بڑھایا ہے اور ہم بہتر نظام زندگی یا بنیادی نوعیت کے حقوق لوگوں کو دینے سے قاصر ہیں۔اگرچہ ہم نے حکومت کی سطح پر بے پناہ عالمی امداد کی بنیاد پر غربت کی کمی اورخوراک کی کمی کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور ان پر اربوں روپے خرچ بھی کیے جاتے ہیں۔
لیکن عملی طور پر ان پروگراموں کے نتائج مثبت دیکھنے کو نہیں ملتے۔یہ وسائل کرپشن،بدعنوانی اور سیاسی یا بیوروکریسی کی لوٹ مار کا حصہ بن جاتی ہے کیونکہ جب ہم نے شفافیت کے نظام سمیت خود کو احتساب کے نظام سے بھی دور رکھنا ہے تو پھر لوٹ مار کے اس کھیل کو کیسے بند کیا جاسکے گا۔یہ جو اربوں روپے کے مالیاتی پروگرام غربت کی کمی کے نام پر آتے ہیں ان کا بھی داخلی اور خارجی محاذ پر کوئی آڈٹ نہیں ہوتا۔ کوئی پوچھنے کے لیے تیار نہیں اس قدر وسائل کی موجودگی میں غربت اور خوراک کے بحران میں کمی کیونکر نہیں ہورہی اور کیوں مسلسل منفی اعداد شمار سالانہ بنیادوں پر دیکھنے کو مل رہاہے۔
اصل بحران ہمیں شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے جن میں بلوچستان، خیرپختونخواہ اور سندھ سمیت جنوبی پنجاب کے دیہی علاقے شامل ہیں جہاں ان کو خوراک سمیت بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے۔خوراک کی کمی میں ایک بڑی تعداد دیہی علاقتوں میں لڑکیوں کی سطح پر سامنے آرہی ہیں یعنی صنفی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی تفریق خود ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ہماری سیاسی ترجیح میں لوگوں کے بنیادی مسائل کم اور طاقت ور طبقات کے مفادات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
معاشی مسائل سمیت خوراک کی کمی جیسے مسائل میں ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کی اپنی قیادت کی بھی بڑی ناکامی ہے جس نے ان مسائل کو اہم نہیں سمجھا اور اپنی ذاتی سیاست اور اس سے جڑے مفادات کو اہمیت دی۔اصل چیلنج ہی ہماری حکمرانی کے نظام کا یہ ہی ہے کہ ہم لوگوں کو کیسے اعتماد دیں یا ان کا بھروسہ بڑھائیں کہ حکمران ان کے مسائل کے حل میں نہ صرف سنجیدہ ہیں بلکہ اس کے لیے ان کے پاس ایک واضح روڈ میپ بھی ہے جو معاملہ کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
جب تک حکمران طبقات عام لوگوں کی معیشت اور خوراک کی کمی جیسے مسائل کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں بنائیں کچھ بھی نہیں بدل سکے گا۔اس نظام کی بہتری کی ایک کنجی مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام اور اس نظام کی مدد سے مالیاتی وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ مقامی سطح پر ترقی کے لیے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر سالانہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی مدد کے ساتھ ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔آج کل ملک میں دوطرز کی بحثوں نے تقویت حاصل کی ہے جس میں نئے صوبوں کی بحث اور مضبوط مقامی حکومت کے نظام کی ہے۔مقامی سطح پر جو محروم طبقات ہیں ان کے بیشتر مسائل کا تعلق تعلیم ،بنیادی صحت،خوراک کی کمی، صاف پانی،سیوریج اور نکاسی آب،اچھی اور بہتر خوراک سے جڑا ہوا ہے۔اگر ہماری ترجیحات میں ان مسائل کا حل بالادست کے پاس نہیں تو پھر مقامی سطح پر غربت کم نہیں ہوگی۔
یہ جو ہم لوگوں کو لائن میں لگا کر راشن یا خوراک بانٹتے ہیں اس سے غربت کی کمی کم بلکہ انسانوں کی تذلیل زیادہ ہوتی ہے۔حکومتی سطح پر اس طرز کے منصوبوں کی بنیاد پر غربت یا خوراک کی کمی کے دعوے درست نہیں۔ہمیں اگر واقعی ملک سے غربت میں کمی لانا اور خوراک کی کمی کا جو مسئلہ بالخصوص بچوں اور بچیوںکی سطح پر ہے تو اس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو روائتی سطحوں کی حکمت عملی سے باہر نکلنا ہوگا۔ہمیںغیر معمولی بنیادوں پر ایک بڑی مضبوط حکمت عملی درکار ہے جو خوراک کی کمی اور اعلی کوالٹی کی خوراک کو ہر سطح پر یقینی بنا سکے۔کیونکہ ہمیں بہتر نسل تیار کرنی ہے اور یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم معاشرے کے سب سے کمزور طبقات اور ان علاقوں کو فوقیت دیں جو ترقی کے عمل میں بہت پیچھے ہیں یا ان کے سماجی اور معاشی اشاریے بھی کمزور ہیں۔ یہ کام حکومتی سطح پر تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کو ایک بڑے ایجنڈے کے طور پر قبول کریں اور اپنی سماجی،معاشی اور ترقی کے دیگر امور کو بنیاد بنا کر اسے قومی ترقی کا نام دیں ۔
لوگوں کو محسوس ہو کہ حکمرانی کا نظام ان کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ عملی طور پر ان جائز مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے محروم طبقات کی سطح پر غربت یاخوراک کی کمی کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی اور بہتری کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے تو سماج میں موجود انتشار اور غیر یقینی صورتحال ختم نہیں ہوسکے گی۔ بالحضوص ہمارے جو سماجی اشاریے ہیں ان کو مثبت طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا اور اس کے لیے قومی سطح پر ہمیں مشترکہ طور پر جامع حکمت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.