کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرنڈم پر ووٹنگ جاری ہے تاہم اس کا نتیجہ فوری آزادی نہیں بلکہ مستقبل میں علیحدگی کے پابند ریفرنڈم کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر 19 اکتوبر کو ہونے والا یہ ووٹ صوبے کے عوام سے پوچھتا ہے کہ آیا البرٹا کو کینیڈا سے الگ ہونے کے لیے قانونی عمل شروع کرنا چاہیے۔ اگر اس تجویز کو اکثریت ملتی ہے تو مستقبل میں علیحدگی کے بارے میں باقاعدہ ریفرنڈم کرانے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ صوبائی وزیرِاعلیٰ نے علیحدگی کی حامی تحریک کے دباؤ اور شہریوں کی جانب سے دستخطی مہم کے بعد ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا تاہم وہ خود کینیڈا سے الگ ہونے کی حامی نہیں ہیں۔ علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے مفادات، خصوصاً تیل اور توانائی کی صنعت، کو نظرانداز کرتی ہے اور البرٹا وفاقی معیشت میں اپنے حصے کے مقابلے میں کم فوائد حاصل کرتا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی قومی اتحاد کے حق میں مہم چلائی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک کی وحدت معاشی اور قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔ البرٹا کے انتخابی ادارے کے مطابق 13 سے 17 اکتوبر تک پیشگی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 56 ہزار 873 رہی جو اہل ووٹرز کا 43.1 فیصد ہے۔ حتمی نتائج ووٹنگ مکمل ہونے اور گنتی کے بعد سامنے آئیں گے۔