مسلم لیگ ن کے بعض سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ اسکینڈل پنجاب میں نہیں بلکہ سندھ میں منظر عام پر آ رہے ہیں کسی کو سندھ سے کوئی مخالفت نہیں ،اگر کسی کو کارکردگی طعنے کی طرح لگتی ہے تو کارکردگی پر بات تو ہوگی، بغیر ثبوت کے کرپشن کے الزامات لگانے والوں کو عدالتوں میں بھی لے جایا جا سکتا ہے جن کے صوبے میں ایک سڑک پر آٹھ ارب کی کرپشن ہو جاتی ہے کیا وہ ہم سے سوال پوچھیں گے؟ اسکینڈل پنجاب میں منظر عام پر آئیں یا کوئی بے ضابطگی ہوتی ہے تو وہ بھی حکومت پنجاب اور ان کی ٹیم اسے سامنے لاتے ہیں اور یہی ہماری اور سندھ کی کارکردگی ہے۔  سندھ اور پنجاب میں ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ کافی عرصہ سے چل رہا ہے جس میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں جس پر مسلم لیگ ن کے وزرا کا کہنا درست ہے کہ تنقید تعمیری اور مقابلہ کارکردگی کا ہونا چاہیے اور بے بنیاد الزامات ثبوت کے بغیر نہیں لگانے چاہئیں۔  ایک مشہور قوال عزیز میاں نے دوسرے مشہور قوال کی طرف سے ایک قوالی میں خود پر ہونے والی تنقید جو ایک قوالی میں شرابی، میں شرابی کی گردان پر جواب دیتے ہوئے اپنی نئی قوالی میں کہا تھا کہ تیری تنقید میں تعمیر تھی میں اس لیے چپ تھا مگر سمجھ لیں کہ میں عزیز میاں ہوں۔ انھوں نے تنقید کو تعمیری تسلیم کیا تھا اور اپنی اہمیت بھی جتا دی تھی۔ آج کل پنجاب اور سندھ کے درمیان تنقید کا جو مقابلہ چل رہا ہے اس میں سندھ کی طرف سے جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ تعمیری نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی ہیں کیونکہ پنجاب اور سندھ میں دو متحارب سیاسی پارٹیوں کی حکومتیں ہیں اور دونوں کو اپنے صوبوں میں اکثریت اور مقبولیت بھی حاصل ہے۔ ملک کا ایک تیسرا صوبہ کے پی ہے جہاں پی ٹی آئی کی بارہ سال سے حکومت مگر وہاں ان کا چوتھا وزیر اعلیٰ ہے جن کی بڑکیں ہی مشہور ہیں اور کارکردگی برائے نام ہے کیونکہ اس سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ کو لایا ہی اسی لیے تھا کہ وہ کارکردگی دکھانے نہیں اپنے بانی کی رہائی ان کا مقصد ہے۔  ملک کا آبادی میں سب سے چھوٹا اور رقبے میں سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے جہاں سب سے زیادہ وزیر اعلیٰ تبدیل ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سیاسی ہوتی ہے مگر وہاں سیاست سے کارکردگی اور ایمان داری زیادہ دکھانے والے کی قدر ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود نہ کھاتے تھے نہ کھانے دیتے تھے اور یہی خامی ان کی تبدیلی کا سبب بنی تھی مگر انھوں نے نیک نامی ضرور کمائی تھی۔ بلوچستان میں جام کمال وزیر اعلیٰ رہے جن کے دادا جام غلام قادر اور والد جام یوسف بھی وزیر اعلیٰ رہے تھے اور جام کمال کی شہرت اپنے پہلوں سے اچھی قرار دی جاتی ہے۔ سندھ میں 18 سالوں سے پیپلز پارٹی کی مسلسل حکومت اور اس طویل عرصے میں قائم علی شاہ کے بعد مراد علی شاہ طویل عرصے سے وزیر اعلیٰ ہیں جن کے والد عبداللہ شاہ بے نظیر دور میں وزیر اعلیٰ تھے مگر ان کا دور کارکردگی کی بجائے بدامنی اور لسانی ہنگامہ آرائی کا دور تھا اور اب ان کے صاحبزادے کو وزیر خزانہ کے بعد وزارت اعلیٰ کا منصب تیسری بار ملا ہے جو سب سے طویل ہے اور سندھ کے اور کراچی کے حالات ماضی سے بہت بہتر ہیں جن کی قابلیت بھی مشہور ہے ۔ اس حکومت میں موٹروے تعمیری منصوبے کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل بھی منظر عام پر آیا ہے اور سندھ حکومت کی کارکردگی ان کے مخالفین اپنی تنقید میں بتاتے رہتے ہیں جس کا توڑ سندھ حکومت کے لاتعداد ترجمان کرنے میں مکمل طور پر ناکام اور صرف وزیر اطلاعات کسی حد تک ضرور کر رہے ہیں اور سندھ حکومت کی موثر ترجمانی کے ساتھ وزیر ٹرانسپورٹ کے طور پر کراچی ہی نہیں سندھ بھر میں نئی بسوں کی آمد و رفت ان کی کارکردگی کا ثبوت ہے مگر کراچی میں سڑکوں کی تباہ حالی اسے اجاگر نہیں ہونے دے رہی۔ سڑکوں کا مسئلہ حل کرنا سندھ حکومت اور میئر کراچی کے اختیارات میں شامل ہے۔ بلوچستان حکومت نے ڈھائی سال میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی جہاں پی پی کا وزیر اعلیٰ اور (ن) لیگ ان کی اتحادی ہے۔  کارکردگی پر ملک بھر میں طعنے بھی ملتے ہیں اور الزامات بھی لگائے جاتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی سخت مخالف پی ٹی آئی شروع سے ہی اس کی کارکردگی تسلیم کرنے کی عادی نہیں اور سیاسی مخالفت میں (ن) لیگ کی اچھی کارکردگی کو بدتر اور بدنام کرنا اس کا وتیرہ رہا ہے جس کا ثبوت لاہور میں میٹرو بس منصوبہ کی مخالفت سے شروع ہوا جسے’’ جنگلا بس‘‘ کہا گیا مگر بعد میں پشاور میں میٹرو بس کی تقلید بھی کی گئی جو اچھی بات اور ضرورت تھی مگر اس کی کارکردگی پنجاب میں لاہور کے بعد راولپنڈی و ملتان جیسی نہیں مگر راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بسوں کی انفرادیت ہے کہ (ن) لیگی حکومت میں ڈیزل سب سے زیادہ مہنگا ہے مگر راولپنڈی سے اسلام آباد میٹرو سروس کے طویل روٹ جس میں 24، میٹرو اسٹیشن ہیں مگر کرایہ اب بھی صرف تیس روپے ہی ہے جب کہ اسلام آباد میں چلنے والی نئی بسیں مختصر فاصلے کے بھی پچاس روپے وصول کر رہی ہیں۔ وفاقی اور پنجاب حکومت مل کر راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بسوں کو کرائے میں ریلیف دے رہی ہیں جو واحد ریلیف ہے۔ لگتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے نہیں بلکہ صرف ملک میں پٹرول، بجلی و گیس مہنگی سے مہنگی کرنے پر یقین رکھتی ہے مگر پہلی بار اقتدار میں آنے والی خاتون وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کو مرد وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں بہترین قرار دیا جاتا ہے جس کی سندھ میں بھی تعریف ہو رہی ہے اور اس کی کسی حد تک کارکردگی کی سندھ حکومت بھی معترف ہے جو اچھی بات ہے۔ صوبوں کے درمیان کارکردگی کا مقابلہ ضرور اور تنقید تعمیری ہونی چاہیے۔ کوئی صوبہ کرپشن سے پاک صاف ہے نہ کاموں میں مکمل شفافیت ہے مگر اسکینڈل اگر خود ظاہر کرکے ایکشن بھی خود لے اور بدعنوانوں کو انجام تک پہنچائے تو مخالفین کو یہ کہنے کا موقعہ بھی نہیں ملنا چاہیے کہ دوسری پارٹی کے حکمران کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں۔